ہوم علاج آئی یو آئی

پاکستان میں آئی یو آئی کا علاج

آئی یو آئی (بچہ دانی میں براہِ راست سپرم رکھنا) بانجھ پن کا ایک علاج ہے جس میں دھو کر مرتکز کیے گئے سپرم کو اوویولیشن کے وقت، یعنی جب انڈا خارج ہوتا ہے، براہِ راست بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے۔ میرپور کے مدر اینڈ چائلڈ انٹرنیشنل ہسپتال (ایم سی آئی) میں آئی یو آئی کی فیس پاکستان میں مریضوں کے لیے 6,000 روپے ہے، اور پہلی مشاورت، الٹراساؤنڈ اور سیمن ٹیسٹ مفت ہیں۔

6,000 روپےپاکستان میں مریضوں کے لیے ایم سی آئی میں آئی یو آئی
مفتپہلی مشاورت، الٹراساؤنڈ اور سیمن ٹیسٹ

آئی یو آئی کیا ہے؟

آئی یو آئی کو آرٹیفیشل انسیمینیشن (مصنوعی تخم ریزی) بھی کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کی سرکاری صحت سروس (NHS) کے مطابق یہ حاملہ ہونے میں مدد کے لیے کیا جانے والا ایک طریقہ کار ہے، جس میں انڈا خارج ہونے (اوویولیشن) کے وقت سپرم براہِ راست آپ کی بچہ دانی (رحم) میں رکھے جاتے ہیں۔

پہلے سپرم کو دھویا جاتا ہے تاکہ بہتر معیار کے سپرم الگ کیے جا سکیں۔ امریکن سوسائٹی فار ری پروڈکٹو میڈیسن کے ReproductiveFacts کے مطابق سپرم کو بچہ دانی کے منہ (سروکس، یعنی بچہ دانی کا تنگ، نچلا حصہ) سے آگے رکھنے سے بیضہ نالیوں (فیلوپین ٹیوبز: بیضہ دانیوں کو بچہ دانی سے جوڑنے والی نالیوں) تک ان کا سفر بہت مختصر ہو جاتا ہے۔ پھر سپرم کو جسم کے اندر قدرتی طریقے سے انڈے کو فرٹیلائز کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

آئی یو آئی کن کے لیے موزوں ہو سکتا ہے؟

آئی یو آئی کے لیے بیضہ نالیوں (فیلوپین ٹیوبز: بیضہ دانیوں کو بچہ دانی سے جوڑنے والی نالیوں) کا کھلا اور صحت مند ہونا ضروری ہے۔ برطانیہ میں فرٹیلٹی کلینکس کی نگرانی کرنے والے ادارے HFEA کے مطابق آپ کا کلینک دوربین سے آپریشن (لیپروسکوپی)، اندام نہانی کے راستے الٹراساؤنڈ (ایک محفوظ اسکین جس میں آواز کی لہریں استعمال ہوتی ہیں، اور جس میں ایک آلہ اندام نہانی میں رکھا جاتا ہے) یا ایکسرے کے ذریعے اس کی جانچ کرے گا۔

NHS اور HFEA کے مطابق آئی یو آئی اس صورت میں ایک ممکنہ علاج ہو سکتا ہے جب ہمبستری کرنا مشکل ہو، مثلاً کسی جسمانی یا نفسیاتی مسئلے کی وجہ سے۔ ReproductiveFacts کے مطابق آئی یو آئی اس وقت بھی مددگار ہو سکتا ہے جب:

  • مرد کے عضو میں تناؤ پیدا نہ ہو یا برقرار نہ رہے، یا وہ مؤثر طریقے سے انزال نہ کر سکے
  • بچہ دانی کے منہ (سروکس) پر زخم کے نشان ہوں یا اس کی ساخت ایسی ہو کہ سپرم بچہ دانی میں داخل نہ ہو پائیں

جب بانجھ پن کی وجہ معلوم نہ ہو (یعنی ٹیسٹوں میں کوئی واضح وجہ سامنے نہ آئے) تو اس بارے میں مشورے مختلف ہیں۔ NHS کے مطابق اس بات کی توقع کم ہے کہ آئی یو آئی سے آپ کے حاملہ ہونے کے امکانات بڑھیں۔ NICE (نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس) نے 2026 میں کہا کہ 2 سال تک کوشش کے بعد، آئی وی ایف (لیبارٹری میں فرٹیلائزیشن، یعنی جب انڈے کو جسم سے باہر فرٹیلائز کیا جاتا ہے) سے پہلے ڈاکٹر گوناڈوٹروفنز (ہارمون کے انجکشن جو بیضہ دانیوں کو انڈے بنانے میں مدد دیتے ہیں) کے ساتھ آئی یو آئی کے زیادہ سے زیادہ 4 سائیکلز پر غور کر سکتے ہیں، یا آئی وی ایف کی پیشکش کر سکتے ہیں۔

جب آئی یو آئی سے فائدہ ہونے کا امکان کم ہو۔ HFEA کے مطابق اگر آپ کی بیضہ نالیاں بند ہوں، شدید اینڈومیٹریوسس ہو (جب بچہ دانی کی اندرونی تہہ جیسا ٹشو بچہ دانی سے باہر بڑھنے لگے)، انڈوں کا معیار کم ہو، انڈوں کی تعداد کم ہو یا مردانہ بانجھ پن ہو (یعنی بانجھ پن کا مسئلہ مرد کی طرف ہو) تو آئی یو آئی مناسب نہیں ہو گا۔ 30 کی دہائی کے آخری برسوں میں یا 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو آئی یو آئی مناسب ہونے کے باوجود آئی وی ایف کروانے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ آپ کا ڈاکٹر مشورہ دے گا کہ آپ کے لیے کیا موزوں ہے۔

آئی یو آئی مرحلہ وار

NHS اور HFEA کے بیان کے مطابق یہ آئی یو آئی کا ایک عام سائیکل ہے؛ آپ کا اپنا علاج تھوڑا مختلف ہو سکتا ہے۔

  1. ٹیسٹ

    ٹیسٹوں کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ آئی یو آئی موزوں ہے یا نہیں، جس میں یہ دیکھنا بھی شامل ہے کہ بیضہ نالیاں کھلی اور صحت مند ہیں یا نہیں۔ شوہر کے بھی ٹیسٹ ہوتے ہیں، جیسے سیمن ٹیسٹ (سپرم کے مسائل کی جانچ)۔

  2. قدرتی سائیکل یا ادویات

    آئی یو آئی آپ کی ماہواری کے عام سائیکل میں، یا انڈوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے فرٹیلٹی ادویات کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ ادویات کے بغیر خون یا پیشاب کے ٹیسٹوں سے پتا چلتا ہے کہ انڈا کب خارج ہو رہا ہے (اوویولیشن)، جو NHS کے مطابق عموماً اگلی ماہواری کی متوقع تاریخ سے 12 سے 16 دن پہلے ہوتا ہے۔

  3. الٹراساؤنڈ

    فرٹیلٹی ادویات کے ساتھ اندام نہانی کے راستے الٹراساؤنڈ سے دیکھا جاتا ہے کہ انڈے کیسے بن رہے ہیں۔ HFEA کے مطابق اگر بہت زیادہ فولیکلز (وہ تھیلیاں جن میں انڈے ہوتے ہیں) بن جائیں تو ایک سے زیادہ بچوں کے حمل کے خطرے کی وجہ سے سائیکل منسوخ کرنا پڑے گا۔

  4. وقت کا تعین

    یا تو آپ کو انڈا خارج ہونے میں مدد کے لیے ہارمون کا ایک انجکشن دیا جائے گا، یا ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ پتا چل سکے کہ انڈا کب خارج ہونے والا ہے (اوویولیشن)۔

  5. سپرم کی دھلائی

    شوہر عموماً اسی دن کلینک میں سپرم کا نمونہ دیتے ہیں۔ ReproductiveFacts کے مطابق سپرم کو مرتکز کرنے کے لیے نمونے کو دھونے میں 2 گھنٹے تک لگ سکتے ہیں۔

  6. بچہ دانی میں سپرم رکھنا

    ایک اسپیکولم (ہموار، نلکی نما آلہ) اندام نہانی کو کھلا رکھتا ہے، اور ایک پتلی، لچکدار نالی (کیتھیٹر) کے ذریعے سپرم بچہ دانی میں پہنچائے جاتے ہیں۔ NHS کے مطابق اس میں عموماً 10 منٹ سے زیادہ نہیں لگتے اور عموماً درد نہیں ہوتا، اگرچہ تھوڑی بے آرامی ہو سکتی ہے اور کچھ دیر کے لیے پیٹ میں مروڑ اٹھ سکتے ہیں۔ تھوڑی دیر آرام کے بعد آپ گھر جا سکتی ہیں۔

  7. حمل کا ٹیسٹ

    آپ کو بتایا جائے گا کہ حمل کا ٹیسٹ کب کرنا ہے۔ HFEA کے مطابق کوشش کریں کہ جلدی ٹیسٹ نہ کریں، کیونکہ نتیجہ گمراہ کن ہو سکتا ہے۔

اگر آئی یو آئی کامیاب نہ ہو، تو HFEA کے مطابق بہت سے لوگ کامیاب حمل سے پہلے کئی سائیکل کرواتے ہیں۔ چھ ناکام سائیکلز کے بعد آپ کا ڈاکٹر کچھ ٹیسٹ کروانا چاہ سکتا ہے اور نتائج کے مطابق آپ کو آئی وی ایف پر غور کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔

آئی یو آئی کے خطرات

NHS کے مطابق آئی یو آئی ایک محفوظ طریقہ کار ہے۔ انفیکشن کا تھوڑا سا امکان ہوتا ہے، لیکن ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اگر آپ انڈا خارج ہونے (اوویولیشن) کے عمل کو تحریک دینے کے لیے فرٹیلٹی دوا لیتی ہیں تو ان کا تھوڑا سا خطرہ ہوتا ہے:

  • ایک سے زیادہ بچے، جس سے آپ کو اور آپ کے بچوں کو خطرات ہو سکتے ہیں
  • بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل)، یعنی جب فرٹیلائز شدہ انڈا بچہ دانی سے باہر، عموماً کسی بیضہ نالی میں، جڑ جائے
  • اوورین ہائپر اسٹیمولیشن سنڈروم (OHSS): آپ کی بیضہ دانیوں میں بہت زیادہ انڈے بن جاتے ہیں، بیضہ دانیاں بڑی اور دردناک ہو سکتی ہیں، اور ہو سکتا ہے آپ کو علاج کا سائیکل روکنا پڑے

HFEA کے مطابق آئی یو آئی میں سب سے بڑی فکر ایک سے زیادہ بچوں کا حمل (جڑواں، تین یا اس سے زیادہ بچے) ہے: ایک سے زیادہ بچوں کے قبل از وقت (یعنی وقت سے پہلے) پیدا ہونے، پیدائش کے وقت کم وزن ہونے، یا پیدائش سے پہلے یا بعد فوت ہو جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لیے HFEA کہتی ہے کہ اگر آپ فرٹیلٹی ادویات لیتی ہیں تو الٹراساؤنڈ کروانا بے حد ضروری ہے۔ HFEA کے مطابق گوناڈوٹروفنز لینے والی خواتین کو OHSS ہو سکتا ہے، جو نایاب صورتوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے اس کی علامات کا علم ہونا بے حد ضروری ہے (نیچے دی گئی خطرے کی علامات دیکھیں)۔

خطرے کی علامات: مدد کب حاصل کریں

NHS کے مطابق، اگر آپ انڈا خارج ہونے (اوویولیشن) کے عمل کو تحریک دینے کے لیے فرٹیلٹی دوا لے رہی ہیں اور آپ کو درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی ہو، جو OHSS کی شدید علامات ہو سکتی ہیں، تو ایمرجنسی مدد حاصل کریں:

  • آپ کو سانس لینے میں دشواری ہو
  • آپ کے سینے یا کمر کے اوپری حصے میں درد ہو
  • آپ کو بہت پیاس لگ رہی ہو اور پیشاب معمول سے کم آ رہا ہو (جسم میں پانی کی کمی)
  • آپ کے جسم کے کسی بھی حصے میں سوجن ہو

پاکستان میں 1122 پر کال کریں یا قریب ترین ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔ برطانیہ میں 999 پر کال کریں یا A&E (ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی) میں جائیں۔ خود گاڑی چلا کر نہ جائیں: کسی سے کہیں کہ آپ کو گاڑی میں لے جائے یا ایمبولینس بلائیں، اور جو بھی ادویات آپ لیتی ہیں وہ ساتھ لے جائیں۔

NHS کے مطابق اس صورت میں بھی فوراً ایمرجنسی مدد حاصل کریں جب آپ کو درج ذیل میں سے ایک سے زیادہ علامات ایک ساتھ ہوں: پیٹ میں اچانک، تیز اور شدید درد؛ بہت زیادہ چکر آنا یا بے ہوش ہو جانا؛ متلی محسوس ہونا؛ رنگت بہت زرد پڑ جانا۔ بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل) کی صورت میں ان علامات کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی بیضہ نالی (فیلوپین ٹیوب: بیضہ دانیوں کو بچہ دانی سے جوڑنے والی نالیوں میں سے ایک) پھٹ گئی ہو (رپچر)، جو بہت سنگین بات ہے اور اس کے لیے جلد از جلد آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں 1122 یا برطانیہ میں 999 پر کال کریں، یا قریب ترین ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔

NHS کے مطابق اس صورت میں بھی ایمرجنسی مدد حاصل کریں جب آپ کو پیڑو میں درد (پیٹ کے نچلے حصے میں درد) ہو اور ساتھ ہی درج ذیل میں سے کوئی بھی بات ہو: درد شدید ہو، بڑھتا جا رہا ہو، یا حرکت کرنے یا اس جگہ کو چھونے پر درد ہوتا ہو؛ آپ کو بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہو، چکر آئیں یا سر ہلکا محسوس ہو، یا آپ بے ہوش ہو جائیں؛ آپ کے کندھے کے سرے میں درد ہو؛ آپ کو سانس لینے میں دشواری ہو؛ آپ کی اندام نہانی سے بہت زیادہ خون آ رہا ہو؛ آپ کو اچانک ذہنی الجھن محسوس ہو۔ پاکستان میں 1122 یا برطانیہ میں 999 پر کال کریں، یا قریب ترین ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔

NHS کے مطابق اگر آپ کے پیٹ (شکم) میں درد اور اپھارہ ہو، متلی ہو رہی ہو اور قے آ رہی ہو، بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہو، یا کھانسی میں خون آ رہا ہو تو جلد از جلد اپنے فرٹیلٹی کلینک سے رابطہ کریں: یہ OHSS کی علامات ہو سکتی ہیں۔ اگر ساتھ ہی آپ کو اوپر دی گئی ایمرجنسی علامات میں سے کوئی بھی علامت ہو، تو اس کے بجائے ایمرجنسی مدد حاصل کریں۔ ایم سی آئی کے مریض صبح 9 سے رات 8 بجے تک +92 348 335 6595 پر کال کر سکتے ہیں: ان علامات کی صورت میں براہِ کرم پیغام بھیجنے کے بجائے کال کریں۔ ان اوقات کے علاوہ، یا اگر ہم سے رابطہ نہ ہو سکے، تو کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔ برطانیہ میں آپ NHS 111 پر بھی کال کر سکتے ہیں۔

بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل)۔ NHS کے مطابق اس میں درج ذیل میں سے ایک سے زیادہ علامات ایک ساتھ ہو سکتی ہیں: ماہواری کا نہ آنا اور حمل کی دوسری علامات؛ پیٹ کے نچلے حصے میں ایک طرف درد؛ اندام نہانی سے خون آنا یا بھورے رنگ کا پانی جیسا مادہ خارج ہونا؛ کندھے کے سرے میں درد؛ پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت تکلیف۔ اگر آپ کو ان میں سے ایک سے زیادہ علامات ایک ساتھ ہوں اور آپ کے حاملہ ہونے کا امکان ہو، تو فوراً طبی مشورہ لیں، چاہے آپ کا حمل کا ٹیسٹ مثبت نہ آیا ہو: اپنے فرٹیلٹی کلینک یا کسی ڈاکٹر سے رابطہ کریں (برطانیہ میں اپنے جی پی یا NHS 111 سے)۔ اگر ساتھ ہی آپ کو اوپر دی گئی ایمرجنسی علامات میں سے کوئی بھی علامت ہو، تو اس کے بجائے ایمرجنسی مدد حاصل کریں۔

آئی یو آئی یا آئی وی ایف: دونوں میں کیا فرق ہے

  • آئی یو آئی میں سپرم بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے اور اسے جسم کے اندر قدرتی طریقے سے انڈے کو فرٹیلائز کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ آئی وی ایف میں انڈے نکال کر لیبارٹری میں فرٹیلائز کیے جاتے ہیں۔
  • HFEA کے مطابق آئی یو آئی، آئی وی ایف کے مقابلے میں کم مداخلت والا طریقہ کار ہے جس میں کم ادویات استعمال ہوتی ہیں، لیکن اس کی کامیابی بھی کم ہے، اس لیے ہو سکتا ہے آپ کو کئی بار کوشش کرنی پڑے۔
  • پاکستان میں مریضوں کے لیے (اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بھی) ایم سی آئی میں آئی یو آئی کی فیس 6,000 روپے ہے۔ آئی وی ایف کی فیس مشاورت سے ایمبریو ٹرانسفر تک 80,000 روپے ہے؛ ادویات الگ ہیں اور ان پر عموماً 50,000 سے 70,000 روپے خرچ آتا ہے۔ برطانیہ، امریکہ، یورپ یا ہانگ کانگ میں رہنے والے جو خاندان میرپور آتے ہیں، وہ آئی وی ایف کے لیے ادویات اور ایمبریو فریزنگ سمیت 800 پاؤنڈ ادا کرتے ہیں۔

HFEA کے مطابق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آئی یو آئی، آئی وی ایف کا سستا یا کم مداخلت والا متبادل نہیں ہے: اگر آپ کو بانجھ پن کا کوئی بڑا مسئلہ ہو تو آپ کے معاملے میں اس کے کامیاب ہونے کا امکان کم ہے۔ آپ کا ڈاکٹر مشورہ دے گا کہ آپ کے لیے کیا موزوں ہے۔

ایم سی آئی میں آئی یو آئی کی فیس کتنی ہے؟

پاکستان میں مریضوں کے لیے (اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بھی) ایم سی آئی میں آئی یو آئی کی فیس 6,000 روپے ہے، اور آپ کی پہلی مشاورت، الٹراساؤنڈ اور سیمن ٹیسٹ مفت ہیں۔ آپ کا ڈاکٹر جو بھی فرٹیلٹی ادویات یا دوسرے ٹیسٹ تجویز کرے، ان کے خرچ کے بارے میں پوچھ لیں۔ کم آمدنی والے خاندان مشاورت کے وقت فیس میں رعایت کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں؛ ہم قسطوں میں ادائیگی کی سہولت نہیں دیتے۔ تمام فیس دیکھیں۔

ایم سی آئی میں آئی یو آئی کا آغاز

آپ کی پہلی مشاورت مفت ہے، میرپور کے ہسپتال میں یا ویڈیو پر، اردو یا انگریزی میں۔ پہلی مشاورت میں میاں بیوی دونوں کا معائنہ کیا جاتا ہے، اور علاج کا فیصلہ ڈاکٹر کے معائنے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ بانجھ پن کے ٹیسٹوں کے بارے میں پڑھیں۔

ایم سی آئی میں صرف میاں بیوی کے اپنے انڈے اور سپرم استعمال کیے جاتے ہیں، اس لیے یہاں آئی یو آئی میں شوہر کے سپرم استعمال ہوتے ہیں: ہم ڈونر کے ذریعے علاج یا سروگیسی نہیں کرتے۔ ہمیں +92 348 335 6595 پر واٹس ایپ کریں (صبح 9 سے رات 8 بجے تک) یا ہم سے رابطہ کریں۔ لاہور، پشاور اور سوات میں ہمارے مشاورتی مراکز بھی ہیں۔

جوڑوں کے سوالات

آئی یو آئی کا علاج کیا ہے؟

آئی یو آئی (بچہ دانی میں براہِ راست سپرم رکھنا) بانجھ پن کا ایک علاج ہے جس میں دھو کر مرتکز کیے گئے سپرم کو انڈا خارج ہونے (اوویولیشن) کے وقت براہِ راست بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے، آپ کے قدرتی سائیکل میں یا فرٹیلٹی ادویات کے ساتھ۔ NHS کے مطابق اس طریقہ کار میں عموماً 10 منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔

کیا آئی یو آئی میں درد ہوتا ہے؟

NHS کے مطابق آئی یو آئی میں عموماً درد نہیں ہوتا، اگرچہ تھوڑی بے آرامی ہو سکتی ہے، اور بعد میں کچھ دیر کے لیے پیٹ میں مروڑ اٹھ سکتے ہیں۔ ReproductiveFacts کے مطابق آئی یو آئی کے بعد کچھ خواتین کو ایک یا دو دن تک اسپاٹنگ (ہلکا سا خون آنا) ہو سکتی ہے۔ آئی یو آئی کے بعد کچھ علامات میں فوری یا ایمرجنسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے: اسی صفحے پر دی گئی خطرے کی علامات دیکھیں۔

پاکستان میں ایم سی آئی کے ہاں آئی یو آئی کی فیس کتنی ہے؟

پاکستان میں مریضوں کے لیے ایم سی آئی میں آئی یو آئی کی فیس 6,000 روپے ہے، اور پہلی مشاورت، الٹراساؤنڈ اور سیمن ٹیسٹ مفت ہیں۔ آپ کا ڈاکٹر جو بھی فرٹیلٹی ادویات یا دوسرے ٹیسٹ تجویز کرے، ان کے خرچ کے بارے میں پوچھ لیں۔

آئی یو آئی کن کے لیے موزوں نہیں ہے؟

HFEA کے مطابق اگر آپ کی بیضہ نالیاں بند ہوں، شدید اینڈومیٹریوسس ہو (جب بچہ دانی کی اندرونی تہہ جیسا ٹشو بچہ دانی سے باہر بڑھنے لگے)، انڈوں کا معیار کم ہو، انڈوں کی تعداد کم ہو یا مردانہ بانجھ پن ہو (یعنی بانجھ پن کا مسئلہ مرد کی طرف ہو) تو آئی یو آئی مناسب نہیں ہو گا۔ 30 کی دہائی کے آخری برسوں میں یا 40 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کو آئی یو آئی مناسب ہونے کے باوجود آئی وی ایف کروانے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ آپ کا ڈاکٹر مشورہ دے گا کہ آپ کے لیے کیا موزوں ہے۔

ہمیں آئی یو آئی کے کتنے سائیکل کروانے چاہییں؟

HFEA کے مطابق بہت سے لوگ کامیاب حمل سے پہلے آئی یو آئی کے کئی سائیکل کرواتے ہیں۔ چھ ناکام سائیکلز کے بعد آپ کا ڈاکٹر کچھ ٹیسٹ کروانا چاہ سکتا ہے اور نتائج کے مطابق آپ کو آئی وی ایف پر غور کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔ جب بانجھ پن کی وجہ معلوم نہ ہو (یعنی ٹیسٹوں میں کوئی واضح وجہ سامنے نہ آئے) تو اس بارے میں مشورے مختلف ہیں۔ NHS کے مطابق اس بات کی توقع کم ہے کہ آئی یو آئی سے آپ کے حاملہ ہونے کے امکانات بڑھیں۔ NICE کی 2026 کی رہنمائی کے مطابق حمل کے لیے 2 سال تک کوشش کے بعد ڈاکٹر آئی وی ایف سے پہلے گوناڈوٹروفنز (ہارمون کے انجکشن جو بیضہ دانیوں کو انڈے بنانے میں مدد دیتے ہیں) کے ساتھ آئی یو آئی کے زیادہ سے زیادہ 4 سائیکلز پر غور کر سکتے ہیں، یا آئی وی ایف کی پیشکش کر سکتے ہیں۔ آپ کا ڈاکٹر مشورہ دے گا کہ آپ کے لیے کیا موزوں ہے۔

آئی یو آئی اور آئی وی ایف میں کیا فرق ہے؟

آئی یو آئی میں سپرم بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے اور اسے جسم کے اندر انڈے کو فرٹیلائز کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے؛ آئی وی ایف میں انڈوں کو لیبارٹری میں فرٹیلائز کیا جاتا ہے اور ایک ایمبریو (فرٹیلائز شدہ انڈا جو تقسیم ہونا شروع ہو گیا ہو) بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے۔ HFEA کے مطابق آئی یو آئی میں آئی وی ایف کے مقابلے میں کم مداخلت ہوتی ہے اور کم ادویات استعمال ہوتی ہیں، لیکن اس کی کامیابی بھی کم ہے۔

مفت مشاورت سے آغاز کریں

میرپور میں یا ویڈیو کال پر، اردو یا انگریزی میں ہماری ٹیم سے ملیں۔ ہم سے رابطے کا سب سے تیز ذریعہ واٹس ایپ ہے۔

واٹس ایپ