پاکستان میں آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کا علاج
آئی وی ایف (لیبارٹری میں فرٹیلائزیشن)، جسے پاکستان میں اکثر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا علاج کہا جاتا ہے، بانجھ پن کا ایک علاج ہے جس میں انڈوں کو لیبارٹری میں سپرم سے فرٹیلائز کیا جاتا ہے اور پھر ایک ایمبریو بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے۔ میرپور کے مدر اینڈ چائلڈ انٹرنیشنل ہسپتال (ایم سی آئی) میں مشاورت سے ایمبریو ٹرانسفر تک آئی وی ایف کی فیس پاکستان میں مریضوں کے لیے 80,000 روپے ہے، اور ادویات کے پیسے الگ ہیں۔
آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کیا ہے؟
اِن وِٹرو کا مطلب ہے جسم سے باہر۔ آئی وی ایف میں انڈوں کو لیبارٹری میں سپرم سے فرٹیلائز کیا جاتا ہے۔ چند دن بعد ایک ایمبریو (فرٹیلائز شدہ انڈا جو تقسیم ہونا شروع ہو گیا ہو) بچہ دانی (رحم) میں رکھا جاتا ہے۔ اگر یہ بچہ دانی کی اندرونی تہہ سے جڑ جائے اور بڑھنے لگے تو حمل شروع ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں آئی وی ایف کو عام طور پر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کہا جاتا ہے؛ بچہ ٹیسٹ ٹیوب میں پرورش نہیں پاتا۔ اس سے متعلقہ علاج میں اکسی (سپرم کو براہِ راست انڈے میں داخل کرنا)، جو آئی وی ایف کی ایک قسم ہے جس میں انڈے میں ایک سپرم انجیکٹ کیا جاتا ہے، اور آئی یو آئی (بچہ دانی میں براہِ راست سپرم رکھنا)، جس میں ایک پتلی نالی کے ذریعے سپرم بچہ دانی میں رکھے جاتے ہیں، شامل ہیں۔ آپ کا ڈاکٹر مشورہ دے گا کہ آپ کے لیے کیا موزوں ہے۔
آئی وی ایف سے کن کو مدد مل سکتی ہے؟
برطانیہ کی سرکاری صحت سروس (NHS) کے مطابق اگر آپ کو حاملہ ہونے میں دشواری ہو رہی ہو اور دوسرے علاج کامیاب نہ ہوئے ہوں تو آئی وی ایف تجویز کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں فرٹیلٹی کلینکس کی نگرانی کرنے والے ادارے HFEA کے مطابق جن لوگوں کو آئی وی ایف تجویز کیا جا سکتا ہے، ان میں یہ شامل ہیں:
- وہ خواتین جن کی بیضہ نالیاں (فیلوپین ٹیوبز: بیضہ دانیوں کو بچہ دانی سے جوڑنے والی نالیاں) بند ہوں یا خراب ہوں
- وہ لوگ جن کے بانجھ پن کی وجہ معلوم نہ ہو سکی ہو، یا جن کے لیے دوسرے علاج کامیاب نہ ہوئے ہوں
- وہ مرد جن کے سپرم کی تعداد کم ہو، یا جن کے بہت سے سپرم کی ساخت یا حرکت نارمل نہ ہو (اگر یہ مسئلہ سنگین ہو تو اکسی کی ضرورت پڑ سکتی ہے)
- وہ خواتین جنہیں انڈا خارج ہونے (اوویولیشن) میں دشواری ہو اور دوسرے علاج سے فائدہ نہ ہوا ہو
- زیادہ عمر کی خواتین، جن کے لیے کم مداخلت والے علاج کے کامیاب ہونے کا امکان کم ہوتا ہے
آپ کا ڈاکٹر مشورہ دے گا کہ آپ کے لیے کیا موزوں ہے۔
آئی وی ایف مرحلہ وار
NHS کے مطابق آئی وی ایف کے ایک مکمل سائیکل میں تقریباً 3 سے 6 ہفتے لگتے ہیں۔ NHS اور HFEA کے بیان کے مطابق یہ عام مراحل ہیں؛ آپ کا اپنا علاج تھوڑا مختلف ہو سکتا ہے۔
ٹیسٹ
پہلی مشاورت میں میاں بیوی دونوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ ایم سی آئی میں پہلی مشاورت، الٹراساؤنڈ (ایک محفوظ اسکین جس میں آواز کی لہریں استعمال ہوتی ہیں) اور سیمن ٹیسٹ (سپرم کے مسائل کی جانچ) مفت ہیں۔ NHS کے مطابق آپ کو ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور ہیپاٹائٹس سی جیسے انفیکشنز کے لیے خون کے ٹیسٹ بھی کروانے پڑ سکتے ہیں۔
انڈے بنانے کے لیے ادویات
ہارمون کی ادویات، جو زیادہ تر انجکشن ہوتی ہیں، بیضہ دانیوں کو کئی انڈے بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک طریقے میں، جسے اکثر لانگ پروٹوکول کہا جاتا ہے، پہلے روزانہ کے انجکشن یا ناک کے اسپرے سے آپ کے قدرتی ہارمونز کو دبایا جاتا ہے (NHS کے مطابق 2 سے 3 ہفتے تک)، اور اس کے بعد 2 ہفتے تک روزانہ انجکشن لگتے ہیں۔ HFEA کے مطابق کچھ کلینک اس کے بجائے اینٹاگونسٹ پروٹوکول استعمال کر سکتے ہیں، جس میں انڈوں کی تعداد بڑھانے والی ہارمون کی دوا لینے کے بعد چند دن تک آپ کے ہارمونز کو دبانے کے لیے ایک دوا (اینٹاگونسٹ) لی جاتی ہے۔ الٹراساؤنڈ یا خون کے ٹیسٹوں سے آپ کی پیش رفت دیکھی جاتی ہے۔
انڈے نکالنا
الٹراساؤنڈ کی مدد سے ایک باریک سوئی کے ذریعے اندام نہانی کے راستے انڈے نکالے جاتے ہیں۔ NHS کے مطابق اس میں تقریباً 20 منٹ لگتے ہیں اور آپ کو سکون آور دوا (ایسی دوا جس سے نیند آنے لگتی ہے) دینے کی پیشکش کی جائے گی۔ بعد میں آپ کو تھوڑا سا درد یا چوٹ لگنے جیسی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے۔
فرٹیلائزیشن
شوہر سپرم کا نمونہ دیتے ہیں۔ لیبارٹری میں انڈوں کو سپرم کے ساتھ ملایا جاتا ہے، یا ایک سپرم انڈے میں انجیکٹ کیا جاتا ہے (اکسی)۔ HFEA کے مطابق ایمبریوز دو سے چھ دن تک نشوونما پاتے ہیں۔
ایمبریو ٹرانسفر
ایک پتلی نالی کے ذریعے، جو اندام نہانی کے راستے اندر ڈالی جاتی ہے، ایمبریو بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے۔ HFEA کے مطابق یہ فرٹیلائزیشن کے دو سے پانچ دن بعد ہوتا ہے، اور اس کے لیے آپ کو کسی بھی قسم کی بے ہوشی کی دوا (جو درد روکتی ہے) کی ضرورت نہیں ہو گی، سوائے اس کے کہ آپ کو کوئی ایسا مسئلہ ہو جس کی وجہ سے یہ عمل تکلیف دہ ہو۔ ایک دوا، جو عموماً پیسری (دوا کی گولی) یا جیل کی صورت میں اندام نہانی یا مقعد میں رکھی جاتی ہے، بچہ دانی کی اندرونی تہہ کو تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر مناسب ایمبریوز بچ جائیں تو انہیں فریز کیا جا سکتا ہے۔
حمل کا ٹیسٹ
NHS کے مطابق آپ کو حمل کا ٹیسٹ اور اسے استعمال کرنے کی ایک تاریخ دی جائے گی، جو ایمبریو ٹرانسفر کے تقریباً 16 دن بعد ہو گی، اور درست نتیجے کے لیے ضروری ہے کہ آپ دی گئی تاریخ پر ہی ٹیسٹ کریں۔ HFEA کا بھی مشورہ ہے کہ جلدی ٹیسٹ نہ کریں، کیونکہ نتیجہ غلط آ سکتا ہے۔
MedlinePlus کے مطابق ٹرانسفر کے بعد بستر پر مکمل آرام (بیڈ ریسٹ) ضروری نہیں، سوائے اس کے کہ اوورین ہائپر اسٹیمولیشن سنڈروم (OHSS، تفصیل نیچے دیکھیں) کا خطرہ بڑھا ہوا ہو۔ NICE (نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس) کے مطابق ایمبریو ٹرانسفر کے بعد 20 منٹ سے زیادہ بیڈ ریسٹ کرنے سے آئی وی ایف کے نتیجے میں کوئی بہتری نہیں آتی۔
ایم سی آئی میں آئی وی ایف کی فیس کتنی ہے؟
پاکستان میں مریضوں اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے لیے ہماری فیس:
- آئی وی ایف: 80,000 روپے، مشاورت سے ایمبریو ٹرانسفر تک
- ادویات: عموماً 50,000 سے 70,000 روپے، جن کی ادائیگی الگ ہوتی ہے (زیادہ تر ہارمون کے انجکشن؛ خوراک آپ کے ٹیسٹوں پر منحصر ہے)
- آئی وی ایف کا دوسرا سائیکل: 60,000 روپے، اگر پہلا کامیاب نہ ہو
- فروزن ایمبریو ٹرانسفر: 10,000 روپے، فریزنگ، تھاؤنگ اور ٹرانسفر سمیت
- مفت: پہلی مشاورت، الٹراساؤنڈ، سیمن ٹیسٹ اور سپرم فریزنگ
برطانیہ، امریکہ، یورپ یا ہانگ کانگ میں رہنے والے جو خاندان میرپور آتے ہیں، وہ ادویات اور ایمبریو فریزنگ سمیت 800 پاؤنڈ ادا کرتے ہیں، اور دوسرے سائیکل کے لیے ادویات سمیت 400 پاؤنڈ۔ بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان دیکھیں۔
اکسی کی فیس آئی وی ایف کے برابر ہے۔ آپ کا ڈاکٹر جو بھی دوسرے ٹیسٹ تجویز کرے، ان کی فیس کے بارے میں پوچھ لیں۔ کم آمدنی والے خاندان مشاورت کے وقت فیس میں رعایت کے بارے میں پوچھ سکتے ہیں؛ ہم قسطوں میں ادائیگی کی سہولت نہیں دیتے۔ تمام فیس دیکھیں۔
آئی وی ایف کے خطرات اور مضر اثرات
NHS کے مطابق آئی وی ایف ایک محفوظ طریقہ کار ہے اور زیادہ تر لوگوں کو اپنی صحت یا حمل کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اس کے خطرات میں یہ شامل ہیں:
- ادویات کے مضر اثرات۔ HFEA کے مطابق بہت سے لوگ ٹھیک محسوس کرتے ہیں، لیکن وہ کہتی ہے کہ کسی بھی غیر متوقع ردِعمل کے بارے میں اپنے کلینک کو بتائیں، جن میں پیٹ میں درد یا پیٹ کا پھول جانا، اچانک گرمی کی لہریں، سانس لینے میں دشواری، مزاج میں اتار چڑھاؤ، ماہواری میں زیادہ خون آنا، چھاتیوں کا دکھنا، بے خوابی (ٹھیک سے نیند نہ آنا)، پیشاب کا زیادہ آنا، کیل مہاسے، سر درد، وزن بڑھنا، چکر آنا اور اندام نہانی میں خشکی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ، جیسے سانس لینے میں دشواری یا پیٹ میں درد، ایسی خطرے کی علامات بھی ہو سکتی ہیں جن کے لیے فوری یا ایمرجنسی مدد کی ضرورت ہوتی ہے: نیچے دی گئی خطرے کی علامات دیکھیں۔
- OHSS۔ NHS کے مطابق اس بات کا تھوڑا سا امکان ہوتا ہے کہ آپ کی بیضہ دانیوں میں بہت زیادہ انڈے بن جائیں، اور بیضہ دانیاں بڑی اور دردناک ہو سکتی ہیں۔ HFEA کے مطابق شدید OHSS بہت ہی نایاب صورتوں میں جان لیوا ہو سکتا ہے، اور اس کی شدید علامات عموماً انڈے نکالنے کے بعد والے ہفتے میں ظاہر ہوتی ہیں (نیچے دی گئی خطرے کی علامات دیکھیں)۔
- جڑواں یا اس سے زیادہ بچے۔ HFEA کے مطابق ایک سے زیادہ بچوں کی پیدائش بانجھ پن کے علاج کا سب سے بڑا خطرہ ہے، اور اس سے ماں اور بچوں دونوں کی صحت کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔
- بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل)، یعنی جب فرٹیلائز شدہ انڈا بچہ دانی سے باہر، عموماً کسی بیضہ نالی میں، جڑ جائے۔ HFEA کے مطابق آئی وی ایف کروانے والی خواتین کو اس کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے (نیچے دی گئی خطرے کی علامات دیکھیں)۔
- نسبتاً نایاب خطرات۔ HFEA کے مطابق انفیکشن، خون بہنا اور آنت میں سوراخ (آنت کو نقصان پہنچنا) نایاب ہیں۔ HFEA یہ بھی کہتی ہے کہ قدرتی طریقے سے حمل ٹھہرنے کے مقابلے میں بانجھ پن کے علاج کے بعد ہونے والے حمل میں پری ایکلیمپسیا (ایک ایسی بیماری جس سے حمل کے دوران بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے)، جیسٹیشنل ذیابیطس (حمل کے دوران شوگر) اور ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تھوڑا سا زیادہ ہوتا ہے، اور وہ ممکنہ پیدائشی نقائص کا بھی ذکر کرتی ہے؛ یہ نایاب ہیں اور ان پر تحقیق ابھی جاری ہے۔ NICE کے مطابق طویل مدتی مسائل کے اصل خطرات کم ہیں، اگرچہ بارڈر لائن اوورین ٹیومر (بیضہ دانی میں ایک قسم کی رسولی) کے خطرے میں معمولی اضافے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
آئی وی ایف کے بعد خطرے کی علامات: مدد کب حاصل کریں
NHS کے مطابق نیچے دی گئی علامات OHSS یا بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل) کی شدید علامات ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ کو ان میں سے کوئی بھی علامت ہو تو ایمرجنسی مدد حاصل کریں:
- آپ کو سانس لینے میں دشواری ہو
- آپ کے سینے یا کمر کے اوپری حصے میں درد ہو
- آپ کو بہت پیاس لگ رہی ہو اور پیشاب معمول سے کم آ رہا ہو (جسم میں پانی کی کمی)
- آپ کے جسم کے کسی بھی حصے میں سوجن ہو
- آپ کے پیٹ کے نچلے حصے میں ایک طرف درد ہو
- آپ کے کندھے کے سرے میں درد ہو
پاکستان میں 1122 پر کال کریں یا قریب ترین ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔ برطانیہ میں 999 پر کال کریں یا A&E (ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی) میں جائیں۔ خود گاڑی چلا کر نہ جائیں: کسی سے کہیں کہ آپ کو گاڑی میں لے جائے یا ایمبولینس بلائیں، اور جو بھی ادویات آپ لیتی ہیں وہ ساتھ لے جائیں۔
NHS کے مطابق اس صورت میں بھی فوراً ایمرجنسی مدد حاصل کریں جب آپ کو درج ذیل میں سے ایک سے زیادہ علامات ایک ساتھ ہوں: پیٹ میں اچانک، تیز اور شدید درد؛ بہت زیادہ چکر آنا یا بے ہوش ہو جانا؛ متلی محسوس ہونا؛ رنگت بہت زرد پڑ جانا۔ بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل) کی صورت میں ان علامات کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی بیضہ نالی (فیلوپین ٹیوب: بیضہ دانیوں کو بچہ دانی سے جوڑنے والی نالیوں میں سے ایک) پھٹ گئی ہو (رپچر)، جو بہت سنگین بات ہے اور اس کے لیے جلد از جلد آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں 1122 یا برطانیہ میں 999 پر کال کریں، یا قریب ترین ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔
NHS کے مطابق اس صورت میں بھی ایمرجنسی مدد حاصل کریں جب آپ کو پیڑو میں درد (پیٹ کے نچلے حصے میں درد) ہو اور ساتھ ہی درج ذیل میں سے کوئی بھی بات ہو: درد شدید ہو، بڑھتا جا رہا ہو، یا حرکت کرنے یا اس جگہ کو چھونے پر درد ہوتا ہو؛ آپ کو بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہو، چکر آئیں یا سر ہلکا محسوس ہو، یا آپ بے ہوش ہو جائیں؛ آپ کے کندھے کے سرے میں درد ہو؛ آپ کو سانس لینے میں دشواری ہو؛ آپ کی اندام نہانی سے بہت زیادہ خون آ رہا ہو؛ آپ کو اچانک ذہنی الجھن محسوس ہو۔ پاکستان میں 1122 یا برطانیہ میں 999 پر کال کریں، یا قریب ترین ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔
NHS کے مطابق اگر آپ کے پیٹ (شکم) میں درد اور اپھارہ ہو، متلی ہو رہی ہو اور قے آ رہی ہو، بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہو، کھانسی میں خون آ رہا ہو، اندام نہانی سے خون آ رہا ہو یا بھورے رنگ کا پانی جیسا مادہ خارج ہو رہا ہو، یا پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت درد یا تکلیف ہو، تو جلد از جلد اپنے فرٹیلٹی کلینک سے رابطہ کریں۔ اگر ساتھ ہی آپ کو اوپر دی گئی ایمرجنسی علامات میں سے کوئی بھی علامت ہو، تو اس کے بجائے ایمرجنسی مدد حاصل کریں۔ ایم سی آئی کے مریض صبح 9 سے رات 8 بجے تک +92 348 335 6595 پر کال کر سکتے ہیں: ان علامات کی صورت میں براہِ کرم پیغام بھیجنے کے بجائے کال کریں۔ ان اوقات کے علاوہ، یا اگر ہم سے رابطہ نہ ہو سکے، تو کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔ برطانیہ میں آپ NHS 111 پر بھی کال کر سکتے ہیں۔
MedlinePlus یہ بھی کہتا ہے کہ اگر آپ کا آئی وی ایف ہوا ہو اور آپ کو 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100.5 ڈگری فارن ہائیٹ) سے زیادہ بخار ہو، پیڑو میں درد ہو، اندام نہانی سے بہت زیادہ خون آ رہا ہو، یا پیشاب میں خون آئے، تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ اگر ساتھ ہی آپ کو اوپر دی گئی ایمرجنسی علامات میں سے کوئی بھی علامت ہو، تو اس کے بجائے ایمرجنسی مدد حاصل کریں۔ اگر آپ کا اپنے ڈاکٹر سے رابطہ نہ ہو سکے تو کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔
ایم سی آئی میں آئی وی ایف کا آغاز
آپ کی پہلی مشاورت مفت ہے، میرپور کے ہسپتال میں یا ویڈیو پر، اردو یا انگریزی میں۔ پہلی مشاورت میں میاں بیوی دونوں کا معائنہ کیا جاتا ہے، اور علاج کا فیصلہ ڈاکٹر کے معائنے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ایم سی آئی میں صرف میاں بیوی کے اپنے انڈے اور سپرم استعمال کیے جاتے ہیں: ہم ڈونر کے ذریعے علاج یا سروگیسی نہیں کرتے۔
ہسپتال کے اندر ہی ایمبریالوجی لیبارٹری موجود ہے، اور ہمارے بانی ڈاکٹر اعجاز انجم فرٹیلٹی ٹیم کی سربراہی کرتے ہیں۔ بکنگ کے لیے ہمیں +92 348 335 6595 پر واٹس ایپ کریں (صبح 9 سے رات 8 بجے تک) یا ہم سے رابطہ کریں۔
دوسرے شہر سے آمد
ہسپتال چھترپڑی، میرپور میں ہے۔ گاڑی کے ذریعے سفر کا اندازاً وقت:
- اسلام آباد (بلیو ایریا): 123 کلومیٹر، تقریباً ڈھائی گھنٹے
- راولپنڈی (صدر): 113 کلومیٹر، تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے
- لاہور (مال روڈ): 208 کلومیٹر، تقریباً 4 گھنٹے
- پشاور (صدر): 294 کلومیٹر، تقریباً 5 گھنٹے
- سوات (مینگورہ): 343 کلومیٹر، تقریباً 6 گھنٹے
- جہلم: 35 کلومیٹر، تقریباً 45 منٹ
- گجرات: 91 کلومیٹر، تقریباً 2 گھنٹے
لاہور، پشاور اور سوات میں ہمارے مشاورتی مراکز بھی ہیں (پتے اور کھلنے کے دن واٹس ایپ پر پوچھیں)، اور 12 کمروں والا ایک گیسٹ ہاؤس، ایم سی آئی ریذیڈنسیا، بھی ہے: کمروں کی دستیابی کے بارے میں ہم سے پوچھیں۔
جوڑوں کے سوالات
کیا ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور آئی وی ایف ایک ہی چیز ہیں؟
جی ہاں۔ پاکستان میں آئی وی ایف کو عام طور پر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کہا جاتا ہے: انڈوں کو لیبارٹری میں سپرم سے فرٹیلائز کیا جاتا ہے، اور پھر ایک ایمبریو بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے۔
آئی وی ایف میں کتنا وقت لگتا ہے؟
NHS کے مطابق آئی وی ایف کے ایک مکمل سائیکل میں تقریباً 3 سے 6 ہفتے لگتے ہیں۔ HFEA کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے لیے چار سے چھ ہفتے، یا ان خواتین کے لیے تقریباً تین ہفتے جنہیں طبی وجوہات کی بنا پر ہارمونز دبانے والا مرحلہ نہیں کروایا جاتا۔
پاکستان میں ایم سی آئی کے ہاں آئی وی ایف کی فیس کتنی ہے؟
پاکستان میں مریضوں کے لیے ایم سی آئی میں مشاورت سے ایمبریو ٹرانسفر تک آئی وی ایف کی فیس 80,000 روپے ہے، اور اس کے علاوہ ادویات پر عموماً 50,000 سے 70,000 روپے خرچ آتا ہے۔ اگر پہلا سائیکل کامیاب نہ ہو تو دوسرے سائیکل کی فیس 60,000 روپے ہے۔ برطانیہ، امریکہ، یورپ یا ہانگ کانگ میں رہنے والے جو خاندان میرپور آتے ہیں، وہ ادویات اور ایمبریو فریزنگ سمیت 800 پاؤنڈ ادا کرتے ہیں۔
کیا آئی وی ایف میں درد ہوتا ہے؟
NHS کے مطابق انڈے نکالنے کے لیے آپ کو سکون آور دوا (ایسی دوا جس سے نیند آنے لگتی ہے) دینے کی پیشکش کی جائے گی۔ HFEA کے مطابق بعد میں آپ کو تھوڑا سا درد یا چوٹ لگنے جیسی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے، اور ایمبریو ٹرانسفر کے لیے بے ہوشی کی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ آپ کو کوئی ایسا مسئلہ ہو جس کی وجہ سے یہ عمل تکلیف دہ ہو۔ آئی وی ایف کے بعد بعض قسم کا درد کسی سنگین مسئلے کی خطرے کی علامت ہو سکتا ہے، جیسے اوورین ہائپر اسٹیمولیشن سنڈروم (OHSS) یا بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل): مدد کب حاصل کرنی ہے، یہ جاننے کے لیے اسی صفحے پر آئی وی ایف کے بعد خطرے کی علامات والا حصہ دیکھیں۔
آئی وی ایف اور اکسی میں کیا فرق ہے؟
آئی وی ایف میں انڈوں اور سپرم کو لیبارٹری میں ملایا جاتا ہے؛ اکسی میں ایمبریالوجسٹ (ایمبریو اسپیشلسٹ) انڈے میں ایک سپرم انجیکٹ کرتا ہے۔ HFEA کے مطابق باقی علاج ایک جیسا ہے، اور ایم سی آئی میں دونوں کی فیس برابر ہے۔
کتنے ایمبریو ٹرانسفر کیے جاتے ہیں؟
آپ کا ڈاکٹر اس بارے میں آپ سے بات کرے گا۔ HFEA زیادہ تر خواتین کے لیے ایک ایمبریو رکھنے کی سفارش کرتی ہے، کیونکہ جڑواں، تین یا اس سے زیادہ بچوں سے ماں اور بچوں دونوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اور NICE کے مطابق ایک سائیکل میں 2 سے زیادہ ایمبریو ٹرانسفر نہیں کیے جانے چاہییں۔
آئی وی ایف کے بعد میں حمل کا ٹیسٹ کب کر سکتی ہوں؟
اسی تاریخ پر جو آپ کا کلینک آپ کو دے۔ NHS کے مطابق یہ تاریخ ایمبریو ٹرانسفر کے تقریباً 16 دن بعد ہو گی، اور درست نتیجے کے لیے ضروری ہے کہ آپ دی گئی تاریخ پر ہی ٹیسٹ کریں۔ HFEA کا مشورہ ہے کہ جلدی ٹیسٹ نہ کریں، کیونکہ نتیجہ غلط آ سکتا ہے۔
ایم سی آئی میں علاج کے بارے میں مزید
ذرائع
اس صفحے پر دی گئی طبی معلومات ان صفحات سے لی گئی ہیں، جنہیں نومبر 2026 میں پڑھا گیا۔ یہ عمومی معلومات ہیں: آپ کے اپنے علاج کے بارے میں آپ کا ڈاکٹر ہی آپ کو مشورہ دے گا۔
- NHS: IVF
- NHS: بانجھ پن کی تشخیص
- NHS: الٹراساؤنڈ اسکین
- NHS: بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل)
- NHS: پری ایکلیمپسیا
- NHS: پیڑو کا درد
- NHS: بانجھ پن کا علاج
- HFEA: آئی وی ایف (لیبارٹری میں فرٹیلائزیشن)
- HFEA: بانجھ پن کے علاج کے خطرات
- HFEA: فرٹیلٹی ادویات
- HFEA: اپنے ایمبریوز کے بارے میں کیے جانے والے فیصلے
- HFEA: اکسی (سپرم کو براہِ راست انڈے میں داخل کرنا)
- HFEA: ایمبریو فریزنگ
- MedlinePlus: آئی وی ایف (لیبارٹری میں فرٹیلائزیشن)
- NICE: آئی وی ایف (لیبارٹری میں فرٹیلائزیشن) کے دوران استعمال ہونے والے طریقے، گائیڈ لائن NG257
- NICE: معاون تولیدی ٹیکنالوجیز کی طویل مدتی سلامتی، گائیڈ لائن NG257
مفت مشاورت سے آغاز کریں
میرپور میں یا ویڈیو کال پر، اردو یا انگریزی میں ہماری ٹیم سے ملیں۔ ہم سے رابطے کا سب سے تیز ذریعہ واٹس ایپ ہے۔