ہوم علاج

آئی وی ایف، اکسی اور آئی یو آئی کا علاج

ہم پہلے ٹیسٹ سے لے کر حمل کے ٹیسٹ تک جوڑوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ یہاں آسان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ ہر علاج میں کیا ہوتا ہے۔ آپ کا ڈاکٹر بتائے گا کہ آپ کے لیے کون سا علاج موزوں ہے۔

بانجھ پن کے ٹیسٹ

پہلی مشاورت میں میاں بیوی دونوں کا معائنہ کیا جاتا ہے، کیونکہ اولاد نہ ہونے کی وجہ کسی ایک میں بھی ہو سکتی ہے۔

  • خاتون کے لیے: بچہ دانی اور بیضہ دانیوں کو دیکھنے کے لیے الٹراساؤنڈ۔ انڈوں کے ذخیرے اور ہارمونز کی سطح جانچنے کے لیے AMH اور FSH جیسے خون کے ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
  • مرد کے لیے: سپرم کی تعداد، حرکت اور ساخت جانچنے کے لیے سیمن کا ٹیسٹ۔

مشاورت، الٹراساؤنڈ اور سیمن ٹیسٹ مفت ہیں۔

ہر ٹیسٹ میں کیا دیکھا جاتا ہے، اور اس کی تیاری کیسے کریں

آئی یو آئی (بچہ دانی میں براہِ راست سپرم رکھنا)

لیبارٹری میں سپرم کو دھو کر مرتکز کیا جاتا ہے، پھر انڈا خارج ہونے (اوویولیشن) کے وقت کے آس پاس ایک پتلی، نرم نالی کے ذریعے بچہ دانی میں رکھا جاتا ہے۔ اس میں چند منٹ لگتے ہیں اور بے ہوشی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

آئی یو آئی، آئی وی ایف سے آسان طریقہ ہے۔ یہ عموماً اس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب بیضہ نالیاں کھلی ہوں اور سپرم صحت مند ہوں۔

6,000 روپےایم سی آئی میں آئی یو آئی

آئی وی ایف (لیبارٹری میں فرٹیلائزیشن)

پاکستان میں آئی وی ایف کو عام طور پر ٹیسٹ ٹیوب بے بی کا علاج کہا جاتا ہے۔ انڈے نکال کر ہماری لیبارٹری میں سپرم سے فرٹیلائز کیے جاتے ہیں، اور پھر ایمبریوز بچہ دانی میں رکھے جاتے ہیں۔

پاکستان میں مشاورت سے ایمبریو ٹرانسفر تک آئی وی ایف کی فیس 80,000 روپے ہے، اور ادویات کے پیسے الگ ہیں۔ برطانیہ، امریکہ، یورپ اور ہانگ کانگ کے خاندانوں کے لیے یہ 800 پاؤنڈ ہے، جس میں ادویات اور ایمبریو فریزنگ شامل ہیں۔ فیس دیکھیں۔

  1. انڈوں کی نشوونما کے لیے ادویات

    علاج عموماً ماہواری کے دوسرے دن شروع ہوتا ہے، اور تقریباً دس دن ہارمون کے انجکشن لگتے ہیں۔ الٹراساؤنڈ سے دیکھا جاتا ہے کہ انڈے کیسے بڑھ رہے ہیں۔

  2. انڈے نکالنا

    الٹراساؤنڈ کی مدد سے ایک باریک سوئی کے ذریعے انڈے نکالے جاتے ہیں۔ تھوڑے آرام کے بعد آپ اسی دن گھر جا سکتی ہیں۔

  3. فرٹیلائزیشن

    لیبارٹری میں انڈوں کو سپرم کے ساتھ رکھا جاتا ہے، یا اکسی کے ذریعے ان میں سپرم انجیکٹ کیا جاتا ہے۔

  4. ایمبریو ٹرانسفر

    تین سے پانچ دن بعد ایک یا زیادہ ایمبریوز ایک پتلی نالی کے ذریعے بچہ دانی میں رکھے جاتے ہیں۔ اس کے لیے عموماً بے ہوشی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

  5. حمل کا ٹیسٹ

    ٹرانسفر کے تقریباً 10 سے 14 دن بعد۔

ایک سے زیادہ ایمبریو رکھنے سے جڑواں یا تین بچوں کا امکان بڑھ جاتا ہے، جس میں ماں اور بچوں دونوں کے لیے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ آپ کا ڈاکٹر آپ سے بات کرے گا کہ کتنے ایمبریو رکھے جائیں۔

اکسی (سپرم کو براہِ راست انڈے میں داخل کرنا)

اکسی میں ایمبریالوجسٹ ہر انڈے میں ایک سپرم انجیکٹ کرتا ہے۔ باقی علاج آئی وی ایف جیسا ہی ہوتا ہے۔

یہ اکثر اس وقت کیا جاتا ہے جب سپرم کی تعداد یا حرکت کم ہو، یا پچھلے سائیکل میں انڈے فرٹیلائز نہ ہوئے ہوں۔ اکسی کی فیس آئی وی ایف کے برابر ہے۔

فریزنگ

ایمبریوز، انڈے اور سپرم ہماری لیبارٹری میں فریز کر کے بعد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ایمبریوز

جو اچھے ایمبریوز ٹرانسفر نہ کیے جائیں، انہیں فریز کر کے بعد میں دوبارہ انڈے نکالے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فروزن ایمبریو ٹرانسفر کی فیس، فریزنگ اور تھاؤنگ سمیت، 10,000 روپے ہے۔

انڈے

انڈے بعد میں استعمال کے لیے فریز کیے جا سکتے ہیں۔

سپرم

سپرم بعد میں استعمال کے لیے فریز کیے جا سکتے ہیں۔ سپرم فریزنگ مفت ہے۔

ہماری لیبارٹری

آئی وی ایف، اکسی اور فریزنگ ہسپتال میں ہماری اپنی ایمبریالوجی لیبارٹری میں ہوتے ہیں، جسے سینئر ایمبریالوجسٹ چلاتے ہیں۔

ویڈیو مشاورت

آپ جہاں بھی رہتے ہوں، ہماری ٹیم کے ساتھ ویڈیو مشاورت سے آغاز کر سکتے ہیں، اور پھر ٹیسٹ اور علاج کے لیے میرپور آ سکتے ہیں۔

علاج کے دوران رہنمائی

بانجھ پن کا علاج میاں بیوی دونوں کے لیے مشکل ہو سکتا ہے۔ ہمارا تربیت یافتہ عملہ ہر مرحلے پر جوڑوں کی رہنمائی اور کونسلنگ کرتا ہے، اور پیچیدہ یا مشکل کیسز والے جوڑوں کو ڈاکٹر انجم خود دیکھتے ہیں۔

جو ہم نہیں کرتے

  • ڈونر انڈے، ڈونر سپرم یا سروگیسی۔ علاج صرف میاں بیوی کے اپنے انڈوں اور سپرم سے ہوتا ہے۔
  • ایمبریوز کی جینیاتی جانچ۔
  • علاج کے بعد حمل کی دیکھ بھال۔ حمل کے دوران آپ کی دیکھ بھال آپ کے اپنے گائناکالوجسٹ کریں گے، اور زچگی کا انتظام ہمارے پارٹنر ہسپتالوں کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

علاج کے بعد کب مدد حاصل کریں

یہ اوورین ہائپر اسٹیمولیشن سنڈروم (OHSS) کی علامات ہو سکتی ہیں، جو فرٹیلٹی ادویات کا ردِعمل ہے، یا بچہ دانی سے باہر حمل (ایکٹوپک حمل) کی۔

فوری طور پر ایمرجنسی مدد حاصل کریں

اگر آپ کو سانس لینے میں دشواری ہو، سینے میں درد ہو، پیٹ میں شدید درد ہو، کندھے کے سرے میں درد ہو، بے ہوشی ہو، یا پیشاب معمول سے بہت کم آ رہا ہو، تو پاکستان میں 1122 یا برطانیہ میں 999 پر کال کریں، یا کسی ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔

فوراً ہم سے رابطہ کریں

اگر علاج کے بعد آپ کو پیٹ میں درد یا اپھارہ ہو، متلی یا قے ہو، یا اندام نہانی سے خون آئے، تو ہمیں +92 348 335 6595 پر کال یا واٹس ایپ کریں (رات 8 بجے تک جواب دیا جاتا ہے)۔ رات 8 بجے کے بعد، یا اگر ہم سے رابطہ نہ ہو سکے، تو ہسپتال کی ایمرجنسی میں جائیں۔ برطانیہ میں آپ NHS 111 پر بھی کال کر سکتے ہیں۔

اس صفحے پر دی گئی عمومی طبی معلومات کے ذرائع

  1. NHS: IVF
  2. HFEA: ICSI
  3. HFEA: risks of fertility treatment
  4. RCOG: ovarian hyperstimulation syndrome

یہ ادارے ایم سی آئی کی نگرانی نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی توثیق کرتے ہیں۔ یہ ذرائع انگریزی میں ہیں۔

مفت مشاورت سے آغاز کریں

میرپور میں یا ویڈیو کال پر، اردو یا انگریزی میں ہماری ٹیم سے ملیں۔ ہم سے رابطے کا سب سے تیز ذریعہ واٹس ایپ ہے۔

واٹس ایپ